रक्षा मंत्रालय हिन्दी में पढ़ें

وزیر دفاع نے دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ 2026 میں کہاکہ اکیسویں صدی میں فوجی تیاری کے لیے دفاعی شعبے کی اہم صلاحیتوں کی مقامی سطح پر تیاری اور ان کے آزادانہ استعمال کی استعداد ناگزیر ہے

Key details of this update
DetailInformation
Date03 November 2026 (Tuesday)
Time5:44 PM
Topic / Ministryरक्षा मंत्रालय
LanguageEnglish · हिन्दी में पढ़ें
Reading time11 min (2,110 words)

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے اہم دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجیز کی ملک کے اندر تیاری اور انہیں آزادانہ طور پر برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اکیسویں صدی میں فوجی تیاری کا انحصار بنیادی طور پر تکنیکی اور صنعتی صلاحیتوں پر ہے۔‘‘ وہ 3 نومبر 2026 کو منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسز (ایم پی-آئی ڈی ایس اے) میں منعقدہ دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ کے تیسرے ایڈیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’آتم نربھرتا‘ کو تکنیکی خود مختاری کی جستجو کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ خود انحصاری کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک کی اہم دفاعی ضروریات بیرونی انحصار کی محتاج نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی خود انحصاری اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب ملک کے پاس دفاعی نظام کا خاکہ تیار کرنے کا علم، اسے تیار کرنے کی ٹیکنالوجی، اس میں بہتری لانے کے لیے دانشورانہ ملکیت کے حقوق اور اس کی پوری مدتِ استعمال کے دوران اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت موجود ہو۔

اس سال کے ڈائیلاگ کے موضوع ’دفاعی اصلاحات، خود انحصاری، باہمی تعاون اور برآمدات‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ان چاروں عناصر کو 2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کے باہم مربوط پہلو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے ذریعے ایسا سازگار ادارہ جاتی ماحول پیدا کیا جانا چاہیے جو ترقی کی راہ ہموار کرے، خود انحصاری سے ملک کی مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو مستحکم کیا جانا چاہیے، باہمی تعاون کے ذریعے جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی کو تیز کرنے اور مشترکہ ترقی کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ برآمدات کے ذریعے پائیدار صنعتی نظام کے لیے درکار پیداواری وسعت، مسابقتی صلاحیت اور عالمی شراکت داریوں کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چاروں عناصر ہندوستان کی اسٹریٹجک خود مختاری کی جستجو کے ایک دوسرے کو تقویت دینے والے ستون ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات ملک کی تبدیلی کے لیے آمادگی، خود انحصاری اس کے تخلیقی عزم، باہمی تعاون دنیا کے ساتھ شراکت داری کے اعتماد اور برآمدات عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی تیاری کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان چاروں عناصر کو ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ اصلاحات، بین الاقوامی تعاون اور برآمدات کے بغیر خود انحصاری ہندوستان کے تکنیکی امکانات، صنعتی وسعت اور عالمی مسابقتی صلاحیت کو محدود کر دے گی۔

وزیر دفاع نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں حالیہ تنازعات نے جنگ کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی کو نمایاں کیا ہے۔ اب میدانِ جنگ خشکی، سمندر اور فضا سے آگے بڑھ کر خلا، سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل شعبے تک پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی جنگ کے درمیان فرق بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور خودکار نظام جدید اور مہنگے فوجی سازوسامان کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ہتھیاروں کے نظام رکھنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے اختراع کرنے، بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے اور دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی استعداد بھی اب اتنی ہی اہم ہو گئی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تکنیکی اور پیداواری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ادارہ جاتی ماحول، ترقی پسندانہ پالیسیاں اور مؤثر طریقۂ کار ضروری ہیں، گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات پیش کیں۔ ان اقدامات میں دفاعی صنعتی راہداریوں کا قیام اور سابقہ آرڈیننس فیکٹری بورڈ کو سات دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں (ڈی پی ایس یوز) میں تبدیل کرنا شامل ہے، جن کا مقصد دفاعی پیداوار کے شعبے میں خود مختاری، کارکردگی اور مسابقتی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

وزیر دفاع نے جدید دفاعی پلیٹ فارمز اور نظاموں کی تیاری اور پیداوار میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ، پروپلشن سسٹمز، اے ٹی اے جی ایس، توپ خانے کے گولہ بارود اور جہاز سازی جیسے منصوبوں میں نجی شعبے کی شرکت کے مواقع سے مقامی سطح پر ترقی کے عمل میں تیزی آئے گی، پیداواری صلاحیت میں وسعت پیدا ہوگی اور عالمی دفاعی منڈی میں ہندوستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے نجی صنعتوں، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کی وسیع تر شمولیت کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ وزارتِ دفاع میں 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیا گیا تھا، جس میں مشترکہ کارروائی، انضمام، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اختراع اور ملک کے دفاعی صنعتی نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں، ادارہ جاتی ڈھانچوں، ٹیکنالوجی کی ترقی، حصولیابی کے طریقۂ کار اور کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق شروع کی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں دفاعی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچ کر تقریباً 1.78 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی، جبکہ دفاعی برآمدات بڑھ کر 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی دفاعی مصنوعات اب 80 سے زائد ممالک تک پہنچ رہی ہیں، جو سرکاری شعبے کے اداروں، نجی صنعتوں، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتی ہیں۔

وزیر دفاع نے دفاعی برآمدات کو ہندوستان کے خود انحصاری کے ایجنڈے کا ایک اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمدات سے ملک کے مقامی صنعتی نظام کی پختگی، مقامی ٹیکنالوجیز کی مسابقتی صلاحیت اور ہندوستان کی استعداد پر بین الاقوامی شراکت داروں کے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے اس ترقی کا سہرا پالیسیوں میں مسلسل نرمی، طریقۂ کار کو آسان بنانے اور معیاری بنانے کے اقدامات کو دیا، جن کی بدولت ہندوستانی صنعت کار، بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتیں، بین الاقوامی مواقع سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی برآمدات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اس میں دیکھ بھال، مرمت، تربیت، رسد اور تکنیکی تعاون کو بھی شامل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کامیاب برآمد کو ایک دیرپا اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد بننا چاہیے۔ انہوں نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کے لیے ملک کی دفاعی صنعت کو اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، معیار میں بہتری اور عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی افواج کو تحقیق و ترقی کے عمل میں اہم شراکت دار بنے رہنا چاہیے، کیونکہ ان کا عملی تجربہ اور میدانِ جنگ کی صورتِ حال سے متعلق ان کی سمجھ، تحقیقی ترجیحات کے تعین اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی افادیت کا جائزہ لینے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تحقیق کے عمل میں آخری صارف کی فوری ضروریات سے آگے بڑھ کر سوچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیق کو فوری عملی ضروریات کے نقطۂ نظر تک محدود کر دیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف پہلے سے معلوم مسائل کے حل تک محدود ہو سکتا ہے، جبکہ ان امکانات کی کھوج نہیں ہو پائے گی جن کا ابھی تصور بھی نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے عمل کو قائم شدہ مفروضات پر سوال اٹھانے، غیر روایتی خیالات پر کام کرنے اور ایسی ٹیکنالوجیز دریافت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے جن کے استعمال کے امکانات فوری طور پر واضح نہ ہوں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ عملی ضروریات کو تحقیق کی سمت متعین کرنے میں رہنمائی فراہم کرنے کا موقع دیتے ہوئے اختراع کے لیے ضروری آزادی اور فکری گنجائش کو بھی برقرار رکھا جانا چاہیے، تاکہ دونوں کے درمیان مناسب توازن قائم ہو سکے۔ انہوں نے تجربات کی حوصلہ افزائی اور اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی کہ کامیاب اختراعات تجربہ گاہوں اور ابتدائی نمونوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ انہیں پیداوار اور عملی استعمال کے مرحلے تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں اختراع کی حوصلہ افزائی ہو، سرمایہ کاری کا تسلسل برقرار رہے اور کامیاب خیالات کو عملی صلاحیتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔

بین الاقوامی دفاعی تعاون کے حوالے سے وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ہندوستان کی خود انحصاری کی کوششوں کا مطلب دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے پراعتماد اور تکنیکی طور پر باصلاحیت ہندوستان کی علامت ہے جو بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ روایتی شراکت داریاں، جن کی بنیاد دفاعی سازوسامان کی خریداری، لائسنس کے تحت تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر رہی ہے، ہندوستان کی صنعتی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوئی ہیں، تاہم مستقبل کی ضروریات اس سے زیادہ بلند عزائم پر مبنی ایسے طریقۂ کار کا تقاضا کرتی ہیں جس کی بنیاد مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور اختراع میں شراکت داری ہو۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’ایسی شراکت داریوں کے ذریعے ڈیزائن اور ترقی کے عمل میں ہندوستان کی بامعنی شرکت، اہم ٹیکنالوجیز تک رسائی، دانشورانہ ملکیت کے حقوق کی مناسب تقسیم اور ہندوستانی کمپنیوں کے لیے عالمی سپلائی چین میں شرکت کے مواقع یقینی بنائے جانے چاہئیں۔ ہماری وسیع ملکی منڈی، پھیلتا ہوا صنعتی ڈھانچہ اور سائنسی و انجینئرنگ کے شعبوں میں باصلاحیت افراد کی بڑی تعداد بین الاقوامی کمپنیوں کو ہندوستانی صنعتوں کے ساتھ شراکت داری کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔‘‘

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر دفاع نے دفاعی افواج، سرکاری ملازمین، سائنس دانوں، صنعت کاروں، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کے دفاعی عزائم کی تکمیل کے لیے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مقصد دفاعی ٹیکنالوجیز کی خریداری سے آگے بڑھ کر انہیں خود تیار کرنے، ملکی ضروریات کے لیے پیداوار سے آگے بڑھ کر عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی دفاعی شراکت داریوں میں محض حصہ لینے کے بجائے عالمی دفاعی ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں بامعنی کردار ادا کرنے کی جانب پیش قدمی کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ میں ہونے والی تبادلۂ خیال کی نشستوں سے اس وژن کی تکمیل کے لیے قیمتی خیالات اور قابلِ عمل تجاویز سامنے آئیں گی۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ایم پی-آئی ڈی ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل، سفیر سجان آر چنائے نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ 2026 دفاعی اصلاحات، مقامی صلاحیتوں، بین الاقوامی تعاون اور دفاعی برآمدات کے حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے پروپلشن سسٹمز اور دفاعی برآمدات کے موضوعات پر ایم پی-آئی ڈی ایس اے کی جانب سے منعقدہ دو ابتدائی گول میز کانفرنسوں کے علاوہ پہلی آسیان-انڈیا ڈیفنس تھنک ٹینک فورم کا بھی ذکر کیا، جن سے ادارے کے بین الاقوامی روابط مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

اس موقع پر چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (سی آئی ایس سی)، ایئر مارشل تیجندر سنگھ، ایڈیشنل سکریٹری محترمہ دیپتی موہل چاولہ، دیگر سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے علاوہ غیر ملکی معززین بھی موجود تھے۔

دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ کے بارے میں

ایم پی-آئی ڈی ایس اے کے زیر اہتمام 3 اور 4 نومبر 2026 کو منعقد ہونے والا یہ دو روزہ ڈائیلاگ ہندوستان اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے پالیسی سازوں، دفاعی افواج کے نمائندوں، دفاعی صنعت، تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس اور اسٹریٹجک امور کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے، تاکہ ہندوستان کی بدلتی ہوئی دفاعی ترجیحات اور بین الاقوامی تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

اس ڈائیلاگ میں ہونے والی گفتگو کا محور ایسی قابلِ عمل پالیسی تجاویز پیش کرنا ہے جو ہندوستان کی دفاعی تیاری کو مضبوط بنانے، مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور بین الاقوامی دفاعی تعاون کے مواقع کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد حکومت، صنعت، اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں (او ای ایمز)، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطے اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ توقع ہے کہ اس کے نتائج پالیسی سازی کے لیے اہم معلومات اور تجاویز فراہم کریں گے اور خود انحصار و تکنیکی طور پر ترقی یافتہ دفاعی نظام کے ہندوستان کے اسٹریٹجک وژن کو آگے بڑھانے میں معاون ہوں گے۔

  1. Ministry of Home Affairs

    Union Home and Cooperation Minister Shri Amit Shah addresses the closing ceremony of the Chhattisgarh Rajyotsav in Raipur today

    Union Home Minister and Minister of Cooperation Shri Amit Shah today addressed the concluding ceremony of the Chhattisgarh Rajyotsav in Raipur. On this occasion, Chhattisgarh Chief Minister Shri Vishnu Deo Sai and…

    Read more →
  2. Ministry of Social Justice & Empowerment

    From Financial Assistance To Academic Excellence

    For 30 year Dr. Anirudh Pradhan (name changed), the NFSC Scheme has been an important source of support in translating his academic aspirations into professional achievement. The fellowship enhanced his academic progress,…

    Read more →
  3. Ministry of Health and Family Welfare

    Union Health Ministry has proposed amendments to Drugs Rules, 1945 to mandate Authorisation of qualified personnel for drug batch release

    Union Ministry of Health and Family Welfare has proposed amendments to the Drugs Rules, 1945, to mandate drug manufacturers to formally authorise a person with appropriate qualifications and experience for batch release…

    Read more →
  4. Ministry of Defence

    Indian Coast Guard and Sri Lanka Coast Guard hold 9th High-Level Meeting

    The 9th High-Level Meeting (HLM) between the Indian Coast Guard (ICG) and the Sri Lanka Coast Guard (SLCG) was held at Mirissa, Sri Lanka, on 03 November 2026. The Indian delegation was…

    Read more →
  5. Ministry of Health and Family Welfare

    Smt. Punya Salila Srivastava, Secretary, Union Health Ministry, selects part-time members of National Dental Commission and its Autonomous Boards through draw of lots as per procedure prescribed under the National Dental Commission Act, 2023

    Union Ministry of Health and Family Welfare has undertaken the selection of part-time members of the National Dental Commission (NDC) and its three Autonomous Boards through a draw of lots, in accordance…

    Read more →
  6. Animal Husbandry & Dairying

    Union Minister Shri Rajiv Ranjan Singh Inaugurated Microbiology Laboratory, Launched Churpi Traceability Initiative and Fodder Plus FPO Products in Sikkim

    Shri Rajiv Ranjan Singh (Alias Lalan Singh), Hon’ble Union Minister of Fisheries, Animal Husbandry and Dairying, Government of India, participated in a programme organised by the Sikkim Milk Union (SMU) at Gangtok,…

    Read more →
  7. Ministry of Defence

    Seminar on Cyber-Enabled Cognitive Warfare by CENJOWS & HQIDS Concludes in New Delhi

    The two-day seminar on “Cyber-Enabled Cognitive Warfare”, organised by the Centre for Joint Warfare Studies (CENJOWS) under the aegis of Headquarters Integrated Defence Staff (HQ IDS), concluded in New Delhi on November…

    Read more →
  8. Ministry of Youth Affairs and Sports

    India Committed to Protecting Integrity of Sports, says Dr. Mandaviya at 10th WAADS QA Managers’ Meeting 2026

    Union Minister of Youth Affairs & Sports Dr. Mansukh Mandaviya, on Tuesday, November 3, 2026, launched the Extramural Research Grant Policy of the National Dope Testing Laboratory (NDTL) at the 10th World…

    Read more →
  9. Ministry of Micro

    Ministry of MSME observes Vigilance Awareness Week 2026 on the Theme of “Probity for Prosperity”

    The Ministry of Micro, Small and Medium Enterprises (MSME) observed Vigilance Awareness Week 2026 from 26th October to 1st November 2026, in accordance with the guidelines issued by the Central Vigilance Commission…

    Read more →
  10. Ministry of Defence

    Indigenous production & independent sustenance of critical defence capabilities key for military preparedness in 21st century: Raksha Mantri at Delhi Defence Dialogue 2026

    “Military preparedness in the 21st century is intrinsically linked to technological and industrial capabilities,” said Raksha Mantri Shri Rajnath Singh as he called for indigenous production of critical equipment and technologies and…

    Read more →
↑