पशुपालन और डेयरी मंत्रालय हिन्दी में पढ़ें

ماہی پروری کا شعبہ اب پیداوار سے آگے بڑھنے کی راہ پر گامزن: مچھلی کی قدر افزائی کے کاروبار اور متحرک فروخت کے نظام سے بھارت کی نیلی معیشت کو نئی جہت ملنے کی توقع

Key details of this update
DetailInformation
Date30 October 2026 (Friday)
Time7:55 AM
Topic / Ministryपशुपालन और डेयरी मंत्रालय
LanguageEnglish · हिन्दी में पढ़ें
Reading time9 min (1,792 words)

بھارت میں ماہی پروری کا شعبہ محض پیداوار پر مرکوز سرگرمی سے آگے بڑھ کر ایک متحرک، ٹیکنالوجی پر مبنی اور قدر افزائی کو اہمیت دینے والے قومی معیشت کے ایک اہم ستون کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یہ شعبہ غذائی تحفظ اور غذائیت کی فراہمی کو مستحکم بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دیہی آبادی کے ذرائع معاش کو سہارا دینے اور برآمدات سے ہونے والی آمدنی میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہی پروری کے شعبے میں مالیت میں اضافہ، کولڈ اسٹوریز اور ترسیل کے مربوط نظام کی ترقی، جدید طریقۂ کار سے مچھلیوں کی تیاری و عمل کاری، متحرک ذرائع سے مچھلیوں کی فروخت اور نئے کاروباری اداروں کی اختراعی کوششوں کے ذریعے نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کاروباری ادارے مچھلیوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے، پیداوار میں اضافے، معیار کو یقینی بنانے اور ماہی گیری کے بعد کی دیکھ بھال و انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت، اشیا کے باہمی رابطے کی ٹیکنالوجی، سلسلہ وار رقمی اندراج، ڈرون ٹیکنالوجی، سرد ترسیل کے جدید نظام اور آبی حیاتیات کی پرورش کے دقیق طریقے تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں نقصانات میں کمی آ رہی ہے، منافع میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماہی پروری سے وابستہ مالیت میں اضافے سے متلعق سلسلہ مزید مستحکم ہو رہا ہے۔

مچھلیوں کی مصنوعات کی قدر و قیمت میں اضافہ بھارت کے ماہی پروری کے شعبے کو محض بنیادی پیداوار کی سرگرمی سے ایک متنوع اور منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ کاروباری شعبے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھر رہا ہے۔مچھلیوں اور ماہی گیری سے حاصل ہونے والی مصنوعات کو مختلف مراحل سے گزار کر قابلِ استعمال بنانے، ان کی پیکنگ کرنے، مخصوص شناخت کے ساتھ بازار میں پیش کرنے اور پکانے یا براہِ راست کھانے کے لیے تیار شکل میں دستیاب کرانے سے پیداوار کرنے والوں کو بہتر قیمتیں حاصل ہوتی ہیں، ساتھ ہی وہ ملکی اور برآمدی منڈیوں میں صارفین کی بدلتی ہوئی پسند اور ضروریات کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، مچھلیوں کی مصنوعات کی قدر و قیمت میں اضافے کے عمل سے مچھلیوں کے شکار کے بعد زیادہ دنوں تک اسٹور کئے جانے کے باعث ضائع ہونے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں ، اس لئے ضائع ہونے کی اس مقدار میں کمی لانے، انہیں زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے اور پیداوار سے لے کر صارفین تک پہنچانے کے پورے سلسلے میں معیار کے مقررہ ضابطوں کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے نئے راستے بھی کھولتا ہے، بالخصوص ماہی گیروں، مچھلی پالنے والوں، خواتین کے گروپوں، نوجوانوں، امدادِ باہمی کی انجمنوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے، جو مچھلیوں کی صفائی و عمل کاری، پیکنگ، سرد خانوں اور درجۂ حرارت کے مطابق محفوظ ترسیل، بازار میں تشہیر و فروخت اور خردہ کاروبار جیسی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔اس طرح، مچھلیوں کی مصنوعات کی قدر و قیمت میں اضافے سے منڈیوں کے ساتھ روابط مزید مستحکم ہوتے ہیں، پیداوار کرنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور ماہی پروری کا شعبہ محفوظ، آسانی سے دستیاب اور اعلیٰ معیار کی سمندری غذاؤں کی وسعت پذیر منڈی میں زیادہ مؤثر انداز سے مسابقت کے قابل بنتا ہے۔

قدر و قیمت میں اضافے کی اس پیش رفت کو عوامی سرمایہ کاری اور ہدف پر مبنی پالیسی اقدامات کے سلسلے سے تقویت ملی ہے، جن کا مقصد پیداوار سے لے کر منڈیوں تک اس شعبے کو مستحکم بنانا ہے۔ 2015 سے حکومتِ ہند نے ماہی پروری کے شعبے میں عوامی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور نیلگوں انقلاب اسکیم، ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا، پردھان منتری متسیہ سمردھی سہ یوجنا اور کسان کریڈٹ کارڈ جیسی اہم اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے 39,272 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا، پیداوار اور فصل کی کٹائی کے بعد کے انتظامی نظام کو مضبوط بنانا، نیز ملک بھر میں 74.66 لاکھ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ہی، نقل و حمل اور رسد کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت 3,393.85 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 46,500 یونیٹوں کا اضافہ کیا گیا ہے، جن میں مچھلیوں کی نقل و حمل کے نظام، مچھلیوں کی تھوک اور خردہ فروشی کی منڈیاں، فروخت کے چھوٹے مراکز، چارے کی تیار کرنے والی کارخانے، برف بنانے کے کارخانے، سرد خانے اور قدر افزائی سے وابستہ کاروباری اکائیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پانچ جدید اور اسمارٹ مچھلی منڈیاں بھی تیار کی جا رہی ہیں، جن میں جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے نظام، ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور رسد و ترسیل کے مربوط نظام کو یکجا کیا جائے گا۔ ان منڈیوں سے روزگار کے 15,900 مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

بنیادی ڈھانچے اور رسد و ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ معیار کی مچھلیوں کی قدر افزائی کے سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے معیاری خام مال کی دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ بھارت میں اعلیٰ قدر والی مچھلیوں کی مصنوعات کی قدر افزائی کے دائرے کو وسیع کرنے کے پیش نظر، معیاری خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ نے مچھلیوں کی ایسی اقسام تیار کرنے کے لیے جینیاتی بہتری کے اقدامات شروع کیے ہیں، جن کی نشوونما تیز ہو، بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بہتر ہو، ناموافق حالات کا مقابلہ کرنے کی قوت زیادہ ہو اور پیداواری صلاحیت بلند ہو۔ اس کوشش سے ٹراؤٹ، جھینگا، کٹلا، روہو، تلپیا، پینگاسیئس، سی باس اور اسکمپی جیسی اعلیٰ قدر والی مچھلیوں کی اقسام کی دستیابی میں مدد ملنے کی توقع ہے، تاکہ انہیں ملکی کھپت، عمل کاری اور برآمدات پر مبنی منڈیوں کے لیے فراہم کیا جا سکے۔ ان اقسام کی پیداوار کی بنیاد کو مضبوط بنا کر جینیاتی بہتری سے قدر افزائی سے وابستہ کاروباری اداروں کو تقویت مل سکتی ہے، مچھلی پالنے والوں کو اپنی سطح پر بہتر منافع حاصل ہو سکتا ہے اور بھارت کو ماہی پروری کی قدر افزا زنجیر میں مزید آگے بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان فوائد کو چھوٹے پیداوار کرنے والوں تک پہنچانے کے لیے ایسے ادارہ جاتی طریقۂ کار کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جن کے ذریعے پیداوار کو یکجا کرنے اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ ماہی پروری کے شعبے میں قدر افزائی کے فروغ کی کوششوں کو اجتماعی کاروباری ماڈل کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے، تاکہ چھوٹے ماہی گیر اور مچھلی پالنے والے پیداوار کے محدود پیمانے، سرمایہ کی کمی اور منڈیوں تک رسائی جیسی رکاوٹوں پر قابو پا سکیں۔ محکمہ نے 2,195 ماہی پرور کسان پیداواری تنظیموں کے قیام میں تعاون کیا ہے، جس سے پیداوار کرنے والوں کو اپنی پیداوار یکجا کرنے، وسائل کو مشترکہ طور پر بروئے کار لانے اور عمل کاری، مصنوعات کو مخصوص شناخت کے ساتھ بازار میں پیش کرنے اور ان کی فروخت کی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں حصہ لینے کا موقع مل رہا ہے۔ ان میں سے کئی تنظیموں کو کھلی رقمی تجارت کے نیٹ ورک سے بھی منسلک کیا گیا ہے، جس سے رقمی منڈیوں تک ان کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں اپنی مصنوعات کی مناسب قیمت حاصل کرنے کے بہتر مواقع مل رہے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمردھی سہ یوجنا کے تحت، این سی ڈی سی، نیفیڈ، ایس ایف اے سی اور نیرا میک جیسی درمیانی معاون ایجنسیوں کے اشتراک سے 5,500 ماہی پروری کی امدادِ باہمی کی انجمنوں کو ماہی پرور کسان پیداواری تنظیموں کے طور پر کام کرنے کے لیے مستحکم کیا جا رہا ہے۔ اجتماعی سودے بازی کی قوت بڑھانے اور پیداوار کرنے والوں کے گروپوں کو جدید قدر افزا زنجیروں سے جوڑنے کے ذریعے ان اداروں سے توقع ہے کہ وہ قدر افزائی پر مبنی ماہی پروری کے کاروبار کی جانب زیادہ جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پیش رفت میں مددگار ثابت ہوں گے۔

قدر و قیمت میں اضافے پر دی جانے والی توجہ سے فصل کی کٹائی کے بعد کی سرگرمیوں اور ماہی پروری پر مبنی کاروبار میں خواتین کی شمولیت کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد تیار ہو رہی ہے۔ بھارت کے ماہی پروری کے شعبے میں خواتین ایک اہم قوت بن کر ابھری ہیں، خصوصاً فصل کی کٹائی کے بعد کی سرگرمیوں اور چھوٹے کاروباری اداروں میں، جہاں قدر افزائی نے آمدنی کے نئے ذرائع اور کاروبار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے تحت گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 1.28 لاکھ سے زیادہ خواتین مستفیدین کے فائدے کے لیے 4,155 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں مرکزی حکومت کا حصہ 1,572 کروڑ روپے ہے۔ اس تعاون سے خواتین کو مچھلیوں کو خشک کرنے، مچھلی کے اچار اور پاپڑ تیار کرنے، دھوئیں کے ذریعے محفوظ کی جانے والی مچھلیوں کی مصنوعات بنانے، مچھلی کا سفوف تیار کرنے، نیز پیکنگ اور خردہ فروشی جیسی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع ملے ہیں۔ مچھلیوں کی متحرک فروخت کے مراکز اور چھوٹی سطح پر عمل کاری کے کاروباری ادارے ساحلی، اندرونی اور شمال مشرقی ریاستوں میں خواتین کے لیے روزگار کے پائیدار ذرائع پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کم قیمت پر پروٹین سے بھرپور غذاؤں کی دستیابی بڑھا کر غذائی تحفظ کو بھی مستحکم کر رہے ہیں۔

بھارت کا ماہی پروری کا شعبہ اب محض پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے قدر افزائی پر مبنی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ایک مربوط نظام کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ اس تبدیلی کو عمل کاری، رسد و ترسیل، سرد خانوں کے بنیادی ڈھانچے، رقمی ذرائع اور کاروباری سرگرمیوں میں سرمایہ کاری سے تقویت مل رہی ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا، پردھان منتری متسیہ سمردھی سہ یوجنا، ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ اور کسان کریڈٹ کارڈ کے باہمی اشتراک سے اس شعبے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، قدر افزائی شدہ سمندری غذاؤں کی برآمدات میں توسیع، ماہی گیروں کی آمدنی میں بہتری، خواتین کے زیر قیادت کاروباری اداروں کے فروغ اور دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ بھارتی ماہی پروری کا مستقبل محض مچھلیوں کی پیداوار بڑھانے پر منحصر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا انحصار ایسی مضبوط اور بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی قدر افزا زنجیروں کی تعمیر پر ہوگا، جو اختراع، نقل و حرکت، عمل کاری اور منڈیوں کی پائیدار ترقی کے ذریعے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو صارفین سے جوڑیں۔

  1. Ministry of Defence

    FIRST TRAINING SQUADRON OF THE INDIAN NAVY DEPARTS COLOMBO, SRI LANKA

    Ships of the First Training Squadron (1TS) of the Indian Navy, comprising INS Tir, INS Sujata and ICGS Sarathi, departed Colombo, Sri Lanka, on 29 Oct 2026, marking the conclusion of a…

    Read more →
  2. Animal Husbandry & Dairying

    Fisheries Sector Looks Beyond Production: Fish Value Addition Enterprises and Mobile Marketing Set to Transform High-Value India’s Blue Economy

    India’s fisheries sector is evolving from a production-focused activity into a dynamic, technology-driven and value-oriented pillar of the national economy. It plays a vital role in strengthening food and nutritional security, generating…

    Read more →
  3. Ministry of Finance

    Clarification on the Process of Strategic Restructuring of the IDBI Bank Ltd.

    The first or initial bid round was conducted in the financial year 2025-26 by DIPAM as per its internal practices, which are in the nature of indicative guidelines and not hidebound rules…

    Read more →
  4. Ministry of Commerce & Industry

    Union Minister of Commerce and Industry, Shri Piyush Goyal Calls for Greater FTA Utilisation by Telangana

    Union Minister of Commerce and Industry, Shri Piyush Goyal, today highlighted India’s growing trade partnerships, policy stability and investment opportunities while addressing the curtain raiser of the Invest Telangana Global Summit in…

    Read more →
  5. Ministry of Micro

    National Small Industries Corporation Limited (NSIC) presents dividend for FY 2025–26 to the Government of India

    Dr. Subhransu Sekhar Acharya, Chairman-cum-Managing Director (CMD) of National Small Industries Corporation Limited (NSIC), a Schedule ‘A’ Mini Ratna Company, presented a dividend of ₹47.76 crore to Shri Jitan Ram Manjhi, Union…

    Read more →
  6. Ministry of Youth Affairs and Sports

    MY Bharat Holds 23 ‘Viksit Bharat Yuva Samvad: Know Your Vote’ Programmes Across 12 States/UTs

    Mera Yuva Bharat (MY Bharat), under the Department of Youth Affairs, Ministry of Youth Affairs and Sports, organised 23 editions of ‘Viksit Bharat Yuva Samvad: Know Your Vote’ across colleges and institutions…

    Read more →
  7. Ministry of Social Justice & Empowerment

    8-Day Shilp Samagam Mela 2026 Concludes Successfully in Guwahati, Assam

    The eight-day Shilp Samagam Mela 2026 organized at Farm Gate, Khanapara, Guwahati in the State of Assam, came to a successful conclusion, drawing widespread appreciation from visitors, local communities and participating artisans.…

    Read more →
  8. Ministry of Social Justice & Empowerment

    From Unsafe Working Conditions To Safety And Dignity A Success Story Under The NAMASTE Scheme

    At 27, Ramesh Kumar (name changed), a sanitation worker from Rajasthan, is moving towards a safer and more secure future with support under the National Action for Mechanised Sanitation Ecosystem (NAMASTE) Scheme.…

    Read more →
  9. AIIA-iCAINE Marks Sixth Foundation Day with Launch of National Ayurveda AI Challenge in Collaboration with Techfest, IIT Bombay

    The All India Institute of Ayurveda (AIIA), New Delhi, celebrated the sixth Foundation Day of its incubation centre, AIIA-iCAINE, with the launch of a national innovation challenge in Artificial Intelligence (AI) for…

    Read more →
  10. Ministry of Communications

    India Post and UTI Mutual Fund Strengthen Partnership to Expand Pan-India KYC Verification Services

    India Post and UTI Mutual Fund have further strengthened their longstanding partnership to expand investor outreach and improve access to mutual fund services across the country. The Memorandum of Understanding (MoU) extending…

    Read more →
↑